حضرتِ سیِّدُنا برکت اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ الباری NafseIslam | Spreading the true teaching of Quran & Sunnah

This Article Was Read By Users ( 1580 ) Times

Go To Previous Page Go To Main Articles Page



حضرتِ سیِّدُنا برکت اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ الباری
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حضرتِ سیِّد بَرَکت اللہ مارہروی علیہ رحمۃ اللہ الباری ۲۶ جمادی الثانی ۱۰۷۰؁ھ کو بلگرام(ہند) میں پیدا ہوئے۔
------------------------------------------
اپنے والد ماجد حضرت سیداویس رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی خدمت میں رہ کر تفسیر و حدیث ،اُصول حدیث، فقہ، وغیرہ کا دَرْس لیااور بہت ہی قلیل مدت میں ان تمام عُلومِ مُرَوَّجَہ میں مہارتِ تامہ حاصل کی۔
--------------------------------------------
والد ِماجد نے جملہ سلاسل کی اجازت و خلافت مرحمت فرما کر سلاسل خمسہ قادِریہ، چشتیہ، نقشبندیہ ، سہروردیہ، مداریہ میں بَیْعَت لینے کی بھی اجازت عطا فرمائی۔
----------------------------------------------
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ مسلسل ۲۶ سال تک روزہ رکھتے رہے اور صرف ایک کَھجورسے افطار کرتے۔
----------------------------------------------
جب آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے حضرت سیدنا شاہ فضل اللہ کالپوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے علم وحکمت و سلوک ومعرفت کا شہرہ سنا توکالپی شریف جانے کا رخت سفر باندھا ۔
کالپی شریف اس وقت علم وحکمت وتہذیب وتمدنِ اسلامی کا قبلہ تھا ۔آپ سفر کی صعوبتیں اُٹھا کر نُور العارفین حضرت سید شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی بارگا عالی وقار میں پہنچے تو انہوں نے تین بار فرمایا:دریا بدریا پیوست یعنی دریا دریا میں مل گیا ۔ صرف اسی کلمے ہی سے حضرت سید میر شاہ فضل اللہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ نے سید شاہ برکت اللہ مارہروی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کو سلوک وتصوف اور دیگر بہت سے مقامات کی سیر کرادی ۔
------------------------------------------------
پانچوں سلاسلِ طریقت کی اجازت ہونے کے باوُجود آپ حضور غوث الاعظم رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے عقیدت کی بنا پر سلسلہ عالیہ قادِریہ میں بَیْعَت فرماتے۔
---------------------------------------------------
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ۱۰ محرم الحرام ۱۱۴۲؁ھ کو صبح صادق کے وقت اس دارِ فانی سے دارِ بقاء کی طرف روانہ ہوئے ۔ مارہرہ شریف میں آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کا مزار مبارَک مرجع خلائق ہے ۔
اللہ عَزّوَجَلَّ کی اِن پر رحمت ہو اور اِن کے صد قے ہماری مغفِرت ہو۔آمین بجاہ النبی الامین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم
=======================
ماخوذ از: شرح شجرہ قادریہ رضویہ عطاریہ